سیول کے دیوار پینٹنگز والے گاؤں: چھپے ہوئے رنگوں کی دنیا دریافت کریں

webmaster

벽화여행 서울 벽화마을 - **Ihwa Mural Village: Vibrant Butterfly Stairs**
    A cheerful young woman, respectfully dressed in...

اسلام و علیکم! کیا حال چال ہیں، میرے پیارے دوستو؟ مجھے پتہ ہے آپ سب ہمیشہ کچھ نیا اور دلچسپ ڈھونڈتے رہتے ہیں، خاص طور پر سفر کے معاملے میں! اگر آپ سیول کی گلیوں میں گھومتے ہوئے کچھ ایسا دیکھنا چاہتے ہیں جو آپ کی روح کو سکون دے اور آپ کی آنکھوں کو حیرت سے بھر دے، تو آپ بالکل صحیح جگہ پر ہیں۔ سیول صرف اونچی عمارتوں اور جدید ٹیکنالوجی کا شہر نہیں، بلکہ اس کی گہرائیوں میں فن اور تاریخ کے ایسے حسین رنگ چھپے ہیں جو آپ کو کسی جادوئی دنیا میں لے جائیں گے۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب میں پہلی بار سیول کے ایہوا مورل ویلج (Ihwa Mural Village) گیا تھا، مجھے لگا جیسے ہر دیوار مجھ سے کوئی کہانی کہہ رہی ہو۔ یہ صرف پینٹنگز نہیں بلکہ وہ یادیں ہیں جو ان دیواروں پر زندہ ہیں۔ آج کل جب دنیا ایک منفرد اور یادگار تجربے کی تلاش میں ہے، یہ مورل ویلجز ایک بہترین موقع فراہم کرتے ہیں جہاں آپ کو کوریا کی حقیقی ثقافت اور فن کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ کیا آپ بھی میرے ساتھ اس رنگین سفر پر نکلنے کے لیے تیار ہیں؟ نیچے دیے گئے مضمون میں ہم سیول کے ان دیواروں والے گاؤں کی تمام تفصیلات اور پوشیدہ خزانوں کو مل کر تلاش کریں گے!

سیول کی دیواروں پر زندگی: جہاں پتھر بھی بول اٹھتے ہیں

벽화여행 서울 벽화마을 - **Ihwa Mural Village: Vibrant Butterfly Stairs**
    A cheerful young woman, respectfully dressed in...

ایہوا مورل ویلج: میری پہلی محبت

میری سیول کے مورل ویلجز کے ساتھ پہلی اور سب سے خوبصورت یاد ایہوا مورل ویلج سے جڑی ہے۔ جب میں پہلی بار وہاں پہنچا، تو مجھے یقین نہیں آیا کہ ایک عام سا رہائشی علاقہ کس قدر فنکارانہ اور دلکش ہو سکتا ہے۔ گلیوں میں چلتے ہوئے ایسا لگا جیسے میں کسی کھلی گیلری میں گھوم رہا ہوں۔ ہر دیوار، ہر سیڑھی پر ایک نئی پینٹنگ اور ایک نئی کہانی نظر آئی۔ وہ تتلیوں والے سیڑھی اور پھولوں سے بھری دیواریں، مجھے آج بھی یاد ہیں کہ کیسے میرے چہرے پر مسکراہٹ لاتی تھیں۔ میں نے وہاں گھنٹوں گزارے، ہر پینٹنگ کو غور سے دیکھا اور اس کی کہانی کو اپنی آنکھوں میں بسایا۔ یہ صرف تصویریں نہیں تھیں، یہ وہاں کے رہائشیوں کی روح، ان کی امیدیں اور ان کے خواب تھے جو برش کے ذریعے دیواروں پر نقش کیے گئے تھے۔ وہاں کی چھوٹی دکانوں میں گرم کافی پیتے ہوئے، میں نے اس جگہ کے پرسکون ماحول کو محسوس کیا جو سیول جیسے بڑے اور مصروف شہر میں ایک نایاب نعمت ہے۔ میرے خیال میں، یہ جگہ صرف سیاحوں کے لیے نہیں، بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو فن اور انسانیت کے گہرے رشتے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

فن اور روایت کا سنگم

ایہوا مورل ویلج دراصل ایک پرانے اور غریب علاقے کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے کا حصہ تھا۔ 2006 میں شروع ہونے والے اس پروجیکٹ میں فنکاروں نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کام کیا اور ان کی زندگیوں اور خواہشات کو دیواروں پر پینٹ کیا۔ یہ فن محض آرائش نہیں، بلکہ اس علاقے کی تاریخ، اس کے دکھ سکھ اور اس کی امیدوں کی عکاسی کرتا ہے۔ جب آپ وہاں کی گلیوں میں گھومتے ہیں تو آپ کو جدید فن کے ساتھ ساتھ کوریائی روایتی انداز بھی نظر آتا ہے، جو ایک منفرد امتزاج پیدا کرتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ماضی اور حال، روایت اور جدت ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ کیسے بزرگ شہری اپنی بالکونیوں سے مسکراتے ہوئے سیاحوں کو دیکھتے ہیں، اور یہ احساس ہوتا ہے کہ فن نے انہیں بھی ایک نیا تعلق اور خوشی دی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فن نہ صرف خوبصورتی پیدا کرتا ہے بلکہ لوگوں کو جوڑتا بھی ہے اور ایک بے جان جگہ میں نئی روح پھونک دیتا ہے۔

سیول کے پوشیدہ جواہر: مزید رنگین مقامات کی تلاش

Advertisement

نکسان پارک کے دامن میں چھپی کہانیاں

ایہوا مورل ویلج دراصل نکسان پارک (Naksan Park) کے دامن میں واقع ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہاں کی سیر صرف دیواروں تک محدود نہیں رہتی۔ نکسان پارک بذات خود ایک خوبصورت پہاڑی پارک ہے جہاں سے سیول کا ایک دلکش نظارہ ہوتا ہے۔ پارک کی چڑھائی کے دوران، آپ کو نہ صرف ایہوا کی پینٹنگز نظر آتی ہیں بلکہ قدیم سیول سٹی وال (Seoul City Wall) کے کچھ حصے بھی ملتے ہیں۔ یہ دیواریں صدیوں پرانی تاریخ کی خاموش گواہ ہیں۔ میری تجویز ہے کہ آپ پارک میں تھوڑا اوپر جائیں اور شہر کے اس شاندار منظر سے لطف اٹھائیں جہاں جدید عمارتیں اور قدیم ورثہ ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ شام کے وقت جب سورج غروب ہو رہا ہوتا ہے، تو یہ منظر واقعی جادوئی لگتا ہے۔ میں اکثر وہاں بیٹھ کر سیول کی روشنیوں کو دیکھتا تھا اور یہ سوچتا تھا کہ یہ شہر کتنی کہانیاں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ جگہ صرف مورل ویلج کے لیے ہی نہیں بلکہ ایک پرسکون اور تاریخی ماحول میں وقت گزارنے کے لیے بھی بہترین ہے۔

دیگر چھوٹے مگر دلکش آرٹ سپاٹس

سیول میں صرف ایہوا ہی نہیں، بلکہ کئی اور بھی چھوٹے چھوٹے آرٹ سپاٹس اور مورل سٹریٹس موجود ہیں جو شاید اتنے مشہور نہ ہوں لیکن اپنی ایک منفرد دلکشی رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہانگ ڈے (Hongdae) کے علاقے میں بھی آپ کو گلیوں میں گرافیتی اور دیگر آرٹ ورک ملیں گے، جو زیادہ جدید اور نوجوان نسل کے فنکاروں کی تخلیقات ہیں۔ اسی طرح، سیول کے کچھ پرانے محلوں میں بھی آپ کو اچانک کسی دیوار پر کوئی خوبصورت پینٹنگ نظر آ سکتی ہے جو شاید کسی مقامی فنکار کی کاوش ہو۔ یہ چھوٹے سپاٹس سیاحوں کی ہجوم سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کو ایک زیادہ ذاتی اور حقیقی تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ میں نے کئی بار اپنی سیول کی گلیوں کی تلاش کے دوران ایسے ہی کچھ پوشیدہ جواہر دریافت کیے ہیں، اور ہر بار مجھے ایسا لگا جیسے میں نے کوئی ذاتی خزانہ ڈھونڈ لیا ہو۔ یہ جگہیں اکثر غیر متوقع ہوتی ہیں اور ان کا اپنا ایک الگ ہی سحر ہوتا ہے، جو آپ کو سیول کے ایک اور رخ سے آشنا کرتا ہے۔

تصویریں بولتی ہیں: خوبصورت لمحات کو کیمرے میں قید کریں

بہترین شاٹس لینے کے گُر

جب آپ ایہوا مورل ویلج جائیں تو اپنا کیمرہ بالکل بھی مت بھولیں۔ یہاں ہر کونے میں ایک تصویر لینے کا موقع ملتا ہے، بس آپ کو صحیح زاویہ ڈھونڈنا ہوگا۔ میں نے وہاں اپنی ٹریول فوٹوگرافی کی سکلز کو بہت نکھارا ہے۔ میرا ایک خاص گُر یہ ہے کہ آپ صبح سویرے یا شام کے وقت جائیں، جب سورج کی روشنی نرم ہوتی ہے اور تصاویر بہت قدرتی لگتی ہیں۔ دن کے وسط میں روشنی بہت تیز ہوتی ہے، جس سے تصویروں میں سختی آ سکتی ہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ آپ صرف پینٹنگز کی تصاویر نہ لیں، بلکہ ان کے ساتھ خود کو بھی شامل کریں۔ ان فن پاروں کے ساتھ انٹریکٹ کریں، جیسے تتلیوں کے پروں کے ساتھ کھڑے ہو کر ایسے پوز دیں جیسے آپ خود اڑ رہے ہوں۔ یہ تصاویر صرف یادگار ہی نہیں بلکہ بہت دلکش بھی بنتی ہیں۔ میں نے وہاں کئی جوڑوں کو دیکھا جو اپنی پری ویڈنگ شوٹس کروا رہے تھے، اور واقعی وہ لمحات بہت خاص لگ رہے تھے۔ ہر پینٹنگ کے پیچھے ایک کہانی ہے، اور جب آپ خود اس کہانی کا حصہ بنتے ہیں تو تصویریں اور بھی جاندار ہو جاتی ہیں۔

یادگار سیلفیز اور گروپ فوٹوز

آج کل کے دور میں سیلفیز کے بغیر تو کوئی سفر مکمل ہی نہیں ہوتا، ہے نا؟ ایہوا مورل ویلج میں آپ کو ایسی بے شمار جگہیں ملیں گی جہاں آپ بہترین سیلفیز لے سکتے ہیں۔ وہ مشہور “تتلیوں کے پروں” والی سیڑھیاں، یا پھر وہ فرشتہ نما پینٹنگ، یہ سب سیلفیز کے لیے بہترین ہیں۔ بس تھوڑا سا تخلیقی بنیں اور نئے زاویے تلاش کریں۔ میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں بہت ساری گروپ فوٹوز بھی لیں جو آج بھی مجھے ہنسا دیتی ہیں۔ یاد رکھیں، وہاں کے رہائشی علاقوں میں زیادہ شور نہ کریں اور لوگوں کی پرائیویسی کا خیال رکھیں۔ سیلفی لیتے وقت دوسروں کو پریشان نہ کریں۔ میری ایک تجویز ہے کہ آپ اپنی تصاویر میں گاؤں کے ماحول اور وہاں کی خوبصورت چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی شامل کریں۔ صرف پینٹنگ پر فوکس کرنے کی بجائے، اس کے ارد گرد کے ماحول کو بھی اپنے فریم میں لائیں۔ اس سے آپ کی تصاویر میں ایک گہرائی اور اصلیت آئے گی، جو عام سیلفیز سے کہیں زیادہ بہتر ہوگی۔

مقامی ذائقے اور ثقافتی جھلکیاں: دیواروں سے آگے

Advertisement

گاؤں کی چھوٹی دکانوں اور کیفے کا مزہ

ایہوا مورل ویلج صرف فن کی نمائش گاہ نہیں بلکہ ایک زندہ گاؤں ہے جہاں مقامی لوگ رہتے ہیں اور اپنی چھوٹی چھوٹی دکانیں چلاتے ہیں۔ جب آپ وہاں جائیں تو ان چھوٹی دکانوں کو ضرور دیکھیں جو مقامی دستکاری اور سووینئرز بیچتی ہیں۔ یہ چیزیں اکثر ہاتھ سے بنی ہوتی ہیں اور ان میں ایک انفرادیت ہوتی ہے جو بڑے مالز میں نہیں ملتی۔ میں نے وہاں سے کچھ چھوٹے پینٹ کیے ہوئے پتھر خریدے تھے جو آج بھی میرے میز پر رکھے ہیں اور مجھے اس خوبصورت سفر کی یاد دلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہاں کے چھوٹے کیفے بھی لاجواب ہیں، جہاں آپ آرام سے بیٹھ کر کوریائی کافی یا کوئی ہلکا پھلکا سنیک لے سکتے ہیں۔ میں نے ایک کیفے میں بیٹھے ہوئے دیکھا کہ کیسے ایک بزرگ خاتون اپنے ہاتھ سے بنی ہوئی کوکیز بیچ رہی تھیں، ان کا خلوص اور محنت واقعی قابلِ ستائش تھی۔ ان چھوٹی دکانوں اور کیفے میں وقت گزارنا نہ صرف آپ کو مقامی زندگی کا تجربہ دیتا ہے بلکہ آپ ان لوگوں کی محنت کو بھی سپورٹ کرتے ہیں جو اس گاؤں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

کوریائی ثقافت سے بھرپور تجربات

ایہوا مورل ویلج میں رہتے ہوئے آپ کو کوریائی ثقافت کی ایک جھلک بھی ملتی ہے۔ یہاں کے لوگ بہت دوستانہ اور مہمان نواز ہیں۔ میں نے دیکھا کہ کیسے مقامی بچے اپنی گلیوں میں کھیلتے ہیں اور ان کی معصوم ہنسی پورے ماحول کو خوشگوار بنا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، کبھی کبھار یہاں مقامی فنکار لائیو پرفارمنس بھی دیتے ہیں یا اپنی آرٹ ورک کی نمائش کرتے ہیں۔ یہ ایک بہترین موقع ہوتا ہے کوریائی فنکاروں سے ملنے اور ان کے کام کو سمجھنے کا۔ یہ جگہ آپ کو سیول کے جدید اور مصروف چہرے سے ہٹ کر، اس کے ایک زیادہ روایتی اور دل کو چھو لینے والے پہلو سے روشناس کراتی ہے۔ یہاں آپ کو ایسا لگے گا جیسے آپ وقت میں پیچھے چلے گئے ہیں، جہاں زندگی تھوڑی دھیمی اور زیادہ پرسکون ہے۔ یہ تجربات آپ کے سیول کے سفر کو ایک منفرد اور یادگار حیثیت دیتے ہیں، جو صرف مورل ویلجز کی خوبصورتی تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ کوریائی زندگی کی ایک جھلک بھی دکھاتے ہیں۔

سفر کی منصوبہ بندی: کیسے پہنچیں اور کیا دیکھیں؟

벽화여행 서울 벽화마을 - **Naksan Park: Sunset over Seoul City Wall**
    A breathtaking panoramic view of Seoul at sunset fr...

ایہوا تک پہنچنے کے آسان طریقے

ایہوا مورل ویلج تک پہنچنا سیول میں بہت آسان ہے۔ سب سے بہترین طریقہ سب وے کا استعمال کرنا ہے۔ آپ ہائےوا اسٹیشن (Hyehwa Station) پر اتریں جو سب وے لائن 4 پر ہے۔ وہاں سے نکل کر، آپ کو نکسان پارک کی طرف پیدل چلنا ہوگا۔ یہ تقریباً 10 سے 15 منٹ کی پیدل مسافت ہے، لیکن یہ راستہ بھی بہت خوبصورت ہے اور آپ کو راستے میں کچھ دکانیں اور چھوٹے ریسٹورنٹس ملیں گے۔ میں نے تو پیدل چلنے کا انتخاب کیا تھا کیونکہ اس سے آس پاس کے ماحول کو بہتر طریقے سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ راستے میں آپ کو نکسان پارک کے نشانات ملتے رہیں گے، اور پھر جیسے ہی آپ پہاڑی پر چڑھنا شروع کریں گے، ایہوا مورل ویلج کی پینٹنگز نظر آنا شروع ہو جائیں گی۔ میری آپ کو ایک اور صلاح ہے کہ گوگل میپس کا استعمال ضرور کریں، کیونکہ راستے میں کچھ تنگ گلیاں ہیں اور پہلی بار جانے والوں کو تھوڑی مشکل ہو سکتی ہے۔ لیکن یقین مانیں، یہ تھوڑی سی پیدل مسافت اس حسین منظر کے لیے بالکل قابلِ قبول ہے۔

دیکھنے کے اوقات اور کچھ اہم تجاویز

ایہوا مورل ویلج ایک رہائشی علاقہ ہے، اس لیے اس کے کوئی خاص کھلنے یا بند ہونے کے اوقات نہیں ہیں۔ آپ دن کے کسی بھی وقت جا سکتے ہیں، لیکن جیسے میں نے پہلے بتایا، صبح سویرے یا شام کا وقت تصاویر اور پرسکون ماحول کے لیے بہترین ہے۔ یہاں کچھ اہم تجاویز ہیں جو آپ کے سفر کو مزید خوشگوار بنائیں گی:

ٹپ تفصیل
صبح یا شام کو جائیں دن کے وسط میں رش کم ہوتا ہے اور روشنی تصاویر کے لیے بہترین ہوتی ہے۔
آرام دہ جوتے پہنیں گاؤں میں سیڑھیاں اور چڑھائیاں بہت ہیں، تو آرام دہ جوتے پہننا ضروری ہے۔
مقامی دکانوں کو سپورٹ کریں چھوٹی دکانوں سے کچھ خرید کر مقامی معیشت میں اپنا حصہ ڈالیں، یہ انہیں خوش کرتا ہے۔
خاموشی برقرار رکھیں یہ ایک رہائشی علاقہ ہے، مقامی باشندوں کے آرام کا خیال رکھیں اور زیادہ شور نہ کریں۔
کیمرہ ساتھ رکھیں یہاں کی خوبصورتی کو کیمرے میں قید کرنا مت بھولیں، ہر کونے میں ایک نیا منظر ملے گا۔

ان تجاویز پر عمل کرکے آپ نہ صرف اپنے سفر کا بھرپور لطف اٹھا سکیں گے بلکہ مقامی لوگوں کے لیے بھی ایک اچھا ماحول برقرار رکھ پائیں گے۔ یاد رکھیں، یہ جگہ لوگوں کے گھر ہیں، اس لیے ہمیشہ احترام کا مظاہرہ کریں۔

یہ محض تصویریں نہیں: ایک گہری کہانی

Advertisement

گاؤں کی تبدیلی کی داستان

ایہوا مورل ویلج کی کہانی صرف دیواروں پر بنے فن پاروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک پورے گاؤں کی تبدیلی اور احیاء کی کہانی ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ گاؤں بوسیدہ عمارتوں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ یہ علاقہ سیول کے غریب اور پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتا تھا، اور یہاں کے رہائشی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔ لیکن پھر 2006 میں کوریا کی وزارتِ ثقافت، کھیل اور سیاحت نے “آرٹ ان سٹی” پروجیکٹ کے تحت یہاں ایک نیا تجربہ کیا۔ انہوں نے 70 کے قریب فنکاروں کو اکٹھا کیا اور انہیں اس گاؤں کی دیواروں پر فن پارے بنانے کا کام سونپا۔ مقصد صرف دیواروں کو خوبصورت بنانا نہیں تھا بلکہ اس علاقے کو دوبارہ زندہ کرنا، سیاحوں کو راغب کرنا اور مقامی لوگوں کو ایک بہتر ماحول فراہم کرنا تھا۔ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ اس پروجیکٹ نے نہ صرف علاقے کو خوبصورت بنایا بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دیا۔ فن کی طاقت نے ایک بے جان گاؤں میں نئی روح پھونک دی، یہ دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔

فنکاروں کا مقصد اور کمیونٹی کا کردار

اس پروجیکٹ میں فنکاروں نے مقامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کیا۔ انہوں نے گاؤں والوں سے ان کی زندگیوں، ان کے خوابوں اور ان کی کہانیوں کے بارے میں پوچھا اور انہی سے متاثر ہو کر اپنے فن پارے تخلیق کیے۔ اس وجہ سے، ہر پینٹنگ میں ایک گہرائی اور اصلیت نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ پینٹنگز میں مقامی بچوں کی معصومیت جھلکتی ہے، تو کچھ میں بزرگوں کی دانشمندی۔ یہ فن صرف فنکاروں کی سوچ کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ پورے گاؤں کی مشترکہ میراث ہے۔ کمیونٹی کا کردار اس میں بہت اہم تھا، کیونکہ انہوں نے فنکاروں کو مکمل آزادی دی اور ان کا ساتھ دیا۔ یہ وہ چیز ہے جو ایہوا مورل ویلج کو سیول کے دیگر سیاحتی مقامات سے ممتاز کرتی ہے۔ یہاں آپ کو صرف خوبصورت پینٹنگز ہی نہیں ملتیں بلکہ ایک ایسے پروجیکٹ کی جھلک بھی ملتی ہے جہاں فن، کمیونٹی اور احیاء ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو آپ کو انسانی روح اور فن کی لامتناہی طاقت کا احساس دلاتا ہے۔

دلوں کو چھو لینے والے فن پارے: فنکاروں کی محنت اور پیغام

منفرد آرٹ سٹائل اور ان کے معنی

ایہوا مورل ویلج میں آپ کو مختلف فنکاروں کے کام نظر آئیں گے، اور ہر فنکار کا اپنا ایک منفرد سٹائل اور پیغام ہے۔ کچھ پینٹنگز بہت سادہ اور دلکش ہیں، جیسے کہ وہ تتلیوں والے سیڑھیاں یا پھولوں سے بھری دیواریں۔ یہ پینٹنگز عام زندگی میں خوبصورتی شامل کرتی ہیں اور ایک مثبت پیغام دیتی ہیں۔ دوسری طرف، کچھ آرٹ ورکس زیادہ گہرے اور علامتی ہیں، جو سماجی مسائل یا انسانی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ میں نے وہاں ایک پینٹنگ دیکھی تھی جس میں ایک بچہ ستاروں کو دیکھ رہا تھا، اس پینٹنگ کو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ یہ بچپن کے خوابوں اور مستقبل کی امید کی علامت ہے۔ ہر پینٹنگ میں کچھ نہ کچھ کہانی چھپی ہوتی ہے، بس آپ کو اسے سمجھنے کے لیے تھوڑا وقت نکالنا ہوتا ہے۔ یہ مختلف سٹائل اور معنی اس گاؤں کو ایک زندہ آرٹ گیلری بناتے ہیں جہاں ہر موڑ پر ایک نیا بصری تجربہ آپ کا منتظر ہوتا ہے۔ یہ فن پارے صرف دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ محسوس کرنے کے لیے بھی ہیں۔

آرٹ کے ذریعے سماجی پیغامات

ایہوا مورل ویلج میں فنکاروں نے اپنے کام کے ذریعے کئی سماجی پیغامات بھی دیے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، یہ گاؤں ایک غریب علاقہ تھا جسے فن کے ذریعے زندہ کیا گیا۔ اس پروجیکٹ نے یہ ثابت کیا کہ فن صرف امیروں کی تفریح نہیں بلکہ یہ سماجی تبدیلی اور بہتری کا ایک طاقتور ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔ کئی پینٹنگز میں ہمدردی، اتحاد اور امید کا پیغام دیا گیا ہے، جو مقامی باشندوں کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کچھ آرٹ ورکس ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی خوبصورتی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، جو آج کے دور میں ایک بہت اہم موضوع ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک پینٹنگ میں پرندے اڑ رہے تھے اور اس کے ساتھ ایک پیغام تھا جو آزادی اور امید کی بات کر رہا تھا۔ یہ پیغام صرف مقامی لوگوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے تھا جو اس پینٹنگ کو دیکھتا ہے۔ یہ فن ہمیں صرف خوبصورتی ہی نہیں دکھاتا بلکہ ہمیں سماجی ذمہ داریوں کا بھی احساس دلاتا ہے۔ اس طرح، ایہوا مورل ویلج فن کے ذریعے ایک مثبت سماجی تبدیلی کی ایک شاندار مثال پیش کرتا ہے۔

글을 마치며

تو میرے دوستو! یہ تھا میرا آپ کے لیے سیول کے ایہوا مورل ویلج کا ایک چھوٹا سا سفر۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو بھی میری طرح اس رنگین اور حسین دنیا میں گم ہونے کا لطف آیا ہوگا۔ یہ صرف دیواروں پر بنی تصویریں نہیں، بلکہ یہ کوریا کی روح، اس کے فنکاروں کی محنت اور وہاں کے لوگوں کی زندہ دلی کا ایک خوبصورت مظاہرہ ہیں۔ جب آپ یہاں آئیں گے تو آپ کو خود محسوس ہوگا کہ کیسے فن پتھروں کو بھی بولنا سکھا دیتا ہے اور کیسے ایک سادہ سا گاؤں بھی ایک جادوئی مقام بن سکتا ہے۔ میری دلی خواہش ہے کہ آپ بھی جلد ہی اس خوبصورت جگہ کا رخ کریں اور اپنے کیمرے میں ان یادوں کو ہمیشہ کے لیے قید کر لیں۔ یہ تجربہ آپ کو سیول کے ایک ایسے رخ سے آشنا کرے گا جو آپ کو کہیں اور نہیں ملے گا۔

Advertisement

알아두면 쓸모 있는 정보

1. سب وے سے سفر کریں: ایہوا مورل ویلج تک پہنچنے کا سب سے بہترین اور آسان طریقہ سیول سب وے کا استعمال ہے۔ آپ سب وے لائن 4 پر واقع ہائےوا اسٹیشن (Hyehwa Station) پر اتر جائیں۔ اسٹیشن سے باہر نکل کر، آپ کو نکسان پارک کی طرف جانا ہوگا جو تقریباً 10 سے 15 منٹ کی پیدل مسافت پر ہے۔ یہ پیدل سفر بھی کافی دلکش ہوتا ہے، راستے میں آپ کو چھوٹی دکانیں اور مقامی کیفے نظر آئیں گے جو آپ کے سفر کو مزید دلچسپ بنا دیں گے۔ میری ذاتی تجویز ہے کہ راستے میں گوگل میپس کا استعمال ضرور کریں تاکہ آپ کسی بھی غلط گلی میں نہ بھٹکیں۔ یہ راستہ آپ کو سیول کے حقیقی رنگ دکھائے گا۔

2. آرام دہ جوتے پہنیں: ایہوا مورل ویلج میں سیڑھیاں اور چڑھائی بہت زیادہ ہے، اس لیے آرام دہ جوتے پہننا انتہائی ضروری ہے۔ مجھے یاد ہے کہ پہلی بار جب میں وہاں گیا تھا تو ہلکے جوتے پہنے تھے اور کافی پریشانی ہوئی تھی۔ اس لیے میری دلی صلاح ہے کہ آپ ایسے جوتے پہنیں جن میں آپ آسانی سے گھوم پھر سکیں اور ہر گلی کو دریافت کر سکیں۔ صحیح جوتے آپ کے سفر کو بہت زیادہ خوشگوار بنا دیتے ہیں اور آپ کو تھکن کا احساس کم ہوتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ آپ کے سفر کی کامیابی کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔

3. صبح یا شام کا انتخاب کریں: اگر آپ بہترین تصاویر لینا چاہتے ہیں اور رش سے بچنا چاہتے ہیں تو صبح سویرے یا شام کے وقت مورل ویلج کا رخ کریں۔ دن کے وسط میں سیاحوں کا ہجوم زیادہ ہوتا ہے اور سورج کی روشنی بھی بہت تیز ہوتی ہے، جو تصاویر کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔ شام کے وقت غروب آفتاب کا منظر نکسان پارک سے ناقابلِ فراموش ہوتا ہے، اور آپ کو ایک پرسکون ماحول میں خوبصورتی کو محسوس کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ وقت فن کی روح کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے اور یادگار لمحات کو کیمرے میں قید کرنے کے لیے بھی بہترین ہے۔

4. مقامی دکانوں کو سپورٹ کریں: ایہوا مورل ویلج کی چھوٹی دکانوں اور کیفے میں وقت گزاریں اور مقامی دستکاری سے بنی اشیاء خرید کر مقامی معیشت کی حوصلہ افزائی کریں۔ یہاں آپ کو منفرد اور ہاتھ سے بنے سووینئرز ملیں گے جو آپ کے سفر کی یادگار بن جائیں گے۔ میں نے خود وہاں سے کچھ چھوٹے آرٹ پیس خریدے تھے جو آج بھی میرے گھر کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ یہ نہ صرف آپ کو ایک خاص چیز دے گا بلکہ مقامی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بھی لائے گا، اور آپ ایک اچھی یاد کے ساتھ واپس لوٹیں گے۔

5. مقامی رہائشیوں کا احترام کریں: سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک رہائشی علاقہ ہے، اس لیے وہاں کے باشندوں کے آرام کا خیال رکھیں۔ شور شرابہ کرنے یا ان کی پرائیویسی میں خلل ڈالنے سے گریز کریں۔ جب بھی تصاویر لیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کسی کے گھر کے سامنے بلاوجہ رکاوٹ نہ بنیں۔ مقامی لوگ بہت دوستانہ ہیں اور وہ آپ کے احترام کی قدر کریں گے۔ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم کسی کے گھر میں مہمان ہیں، اور مہمان نوازی کا تقاضا ہے کہ ہم میزبان کے ماحول کو خوشگوار رکھیں۔

اہم نقاط کا خلاصہ

سیول کا ایہوا مورل ویلج محض ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ فن، تاریخ اور انسانی جذبے کا حسین امتزاج ہے۔ یہ جگہ ایک ایسے پروجیکٹ کی یادگار ہے جس نے فن کی طاقت سے ایک پسماندہ علاقے کو دوبارہ زندہ کیا اور اسے ایک دلکش آرٹ گیلری میں بدل دیا۔ جب آپ یہاں آتے ہیں تو آپ کو صرف خوبصورت پینٹنگز ہی نہیں ملتیں بلکہ ایک کمیونٹی کی محنت، امید اور جدوجہد کی کہانی بھی ملتی ہے۔ یہ جگہ فنکاروں کی مہارت، مقامی باشندوں کے ساتھ ان کی گہری وابستگی اور فن کے ذریعے سماجی بہتری کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میری ذاتی رائے میں، یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کو سیول کی روح کو محسوس کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہاں ہر تصویر، ہر دیوار، اور ہر گلی ایک کہانی سناتی ہے جو آپ کے دل کو چھو لیتی ہے۔ یہ تجربہ آپ کو انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی لامحدود طاقت کا احساس دلاتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ کیسے فن کسی بھی جگہ کو جادوئی بنا سکتا ہے۔

یہاں آپ کو تصویریں لینے کے بے شمار مواقع ملیں گے، خاص طور پر صبح سویرے یا شام کے وقت جب روشنی بہترین ہوتی ہے۔ آرام دہ جوتے پہننا نہ بھولیں کیونکہ یہاں بہت سیڑھیاں اور چڑھائیاں ہیں۔ مقامی دکانوں اور کیفے میں وقت گزار کر مقامی کاروبار کو سپورٹ کریں، اور مقامی باشندوں کے آرام کا خیال رکھتے ہوئے خاموشی برقرار رکھیں۔ یہ تجربہ آپ کے سیول کے سفر کو ایک منفرد اور یادگار حیثیت دے گا، جہاں آپ کو جدید شہر کے شور سے دور ایک پرسکون اور فنکارانہ دنیا کا تجربہ کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ واقعی ایک ایسی جگہ ہے جو آپ کی روح کو تازگی بخشے گی اور آپ کو نئے نقطہ نظر سے دنیا کو دیکھنے پر مجبور کرے گی، جو مجھے ذاتی طور پر بہت پسند آیا۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: ایہوا مورل ویلج کیا ہے اور یہ کیوں اتنا خاص ہے؟

ج: میرے دوستو، ایہوا مورل ویلج سیول کے ایہوا ڈونگ علاقے میں ناکسان پارک کے قریب واقع ایک انتہائی دلکش پہاڑی گاؤں ہے۔ اسے “مون ولیج” یا “دالڈونے” (Daldongne) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک اونچی پہاڑی پر ہے اور یہاں سے چاند کا نظارہ بہت خوبصورت ہوتا ہے، اور ساتھ ہی یہ شہر کا ایک شاندار منظر بھی پیش کرتا ہے۔ اس گاؤں کی تاریخ بہت پرانی ہے؛ 1950 کی دہائی میں کوریائی جنگ کے بعد، یہاں پناہ گزینوں نے رہائش اختیار کی اور یہ مزدور طبقے کا گھر بن گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ علاقہ زوال پذیر ہوتا گیا اور اسے منہدم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
لیکن پھر 2006 میں، جنوبی کوریا کی وزارت ثقافت، کھیل اور سیاحت نے “آرٹ ان سٹی” منصوبے کے تحت اسے بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ 70 سے زائد فنکاروں نے اس گاؤں کی دیواروں، سیڑھیوں، اور گلیوں کو رنگین مورلز اور فنکارانہ تنصیبات سے سجا دیا، جس نے اسے ایک زندہ آرٹ گیلری میں بدل دیا۔ مجھے ذاتی طور پر یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ کیسے آرٹ نے ایک پسماندہ جگہ کو سیاحوں کے لیے ایک دلکش مقام میں تبدیل کر دیا۔ یہ صرف پینٹنگز نہیں ہیں، بلکہ یہ کہانیاں ہیں جو آپ کو کوریا کی تاریخ اور فن کی گہرائیوں میں لے جاتی ہیں۔

س: ایہوا مورل ویلج کیسے پہنچا جائے اور وہاں کن چیزوں کا تجربہ کیا جا سکتا ہے؟

ج: ایہوا مورل ویلج پہنچنا بالکل بھی مشکل نہیں ہے، بس آپ کو سیول سب وے لائن 4 پر ہیہوا (Hyehwa) اسٹیشن تک جانا ہوگا۔ اسٹیشن سے نکلنے کے لیے Exit 2 کا انتخاب کریں، اور پھر سیدھا مارونیر پارک (Marronnier Park) کی طرف چلتے جائیں۔ اس کے بعد آپ کو ڈاچنگنو انفارمیشن سینٹر (Dachangno Information Center) نظر آئے گا، جہاں سے آپ بائیں مڑ کر پہاڑی کی طرف ایہوا مورل ویلج کی جانب چلنا شروع کر دیں گے۔ وہاں آپ کو راستہ بتانے والے سائن بورڈز بھی ملیں گے۔
ایک بات جو میں آپ کو اپنے تجربے سے بتاؤں گا وہ یہ ہے کہ اس گاؤں میں کافی اونچی چڑھائی ہے، تو آرام دہ جوتے پہن کر جائیں اور ساتھ میں پانی کی بوتل ضرور رکھیں۔ جب آپ گاؤں کی گلیوں میں گھومیں گے تو آپ کو ہر موڑ پر ایک نیا مورل، ایک نئی پینٹنگ اور ایک نئی کہانی ملے گی۔ اینجل ونگز (Angel Wings) جیسے مشہور مورلز کے ساتھ تصاویر لینا مت بھولیں!
مجھے وہاں کی تنگ گلیوں میں گھومنا اور ہر کونے میں چھپے آرٹ کو تلاش کرنا بہت پسند آیا۔ اس کے علاوہ، آپ وہاں کے چھوٹے چھوٹے کیفے میں بیٹھ کر سیول کے خوبصورت نظارے کا مزہ لے سکتے ہیں۔ اس کے بعد، گاؤں سے تھوڑا مزید اوپر ناکسان پارک ہے جہاں سے آپ سیول کے قدیم قلعے کی دیواریں اور جدید شہر کا دلکش منظر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ واقعی ایک بہترین تجربہ ہوتا ہے!

س: ایہوا مورل ویلج جاتے وقت سیاحوں کو کن باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے؟

ج: یہ ایک بہت اہم سوال ہے، میرے پیارے دوستو! ایہوا مورل ویلج صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ یہ ایک رہائشی علاقہ ہے جہاں لوگ آج بھی رہتے ہیں۔ اس لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ وہاں کے رہائشیوں کا مکمل احترام کریں اور ان کی پرائیویسی کا خیال رکھیں۔ جب میں وہاں گیا تھا تو میں نے دیکھا کہ کچھ مورلز کو مقامی لوگوں نے ہٹا دیا تھا یا ان پر پینٹ کر دیا تھا کیونکہ سیاحوں کے شور اور بے احترامی سے وہ پریشان تھے۔
لہذا، میری طرف سے چند اہم تجاویز یہ ہیں:
خاموشی برقرار رکھیں: وہاں جاتے ہوئے زیادہ شور شرابہ نہ کریں اور اپنی گفتگو کو نارمل آواز میں رکھیں۔
رہائشیوں کی پرائیویسی کا احترام کریں: کسی کے گھر میں جھانکنے یا بغیر اجازت تصویر لینے سے گریز کریں۔
صفائی کا خیال رکھیں: اپنی طرف سے کوئی کوڑا کرکٹ نہ پھیلائیں۔
ہفتے کے دنوں میں وزٹ کریں: اگر آپ بھیڑ سے بچنا چاہتے ہیں تو ہفتے کے دنوں میں یا صبح سویرے جانے کی کوشش کریں۔ اس سے آپ کو آرٹ اور نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا زیادہ موقع ملے گا۔
تازہ ترین معلومات چیک کریں: گاؤں میں آرٹ ورک بدلتا رہتا ہے، اس لیے انفارمیشن سینٹر سے تازہ ترین نقشہ لینا نہ بھولیں۔
ان باتوں کا خیال رکھ کر آپ نہ صرف ایک خوشگوار تجربہ حاصل کر سکیں گے بلکہ وہاں کے مقامی لوگوں کے لیے بھی آسانی پیدا کریں گے۔ یہ جگہ واقعی دیکھنے کے قابل ہے، اور میرا دل چاہتا ہے کہ سب اس کی خوبصورتی کا احترام کریں تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایسا ہی خوبصورت رہے۔

Advertisement